الفتح الربانی
مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء— قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام
باب النهي عَنْ قَبل حَيَّاتِ البيوتِ إِلَّا بَعْدَ تَحْذِيرِهَا إلا الْأَبْتَر وَذَا الطميتينِ فَإِنَّهُمَا يُقتلان باب: گھریلو سانپوں کو مارنے کی ممانعت کا بیان، الا یہ کہ پہلے ان کو متنبہ کیا جائے، مگر چھوٹی دم والا موذی سانپ اور وہ سانپ جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوں، ان دونوں کو ہر صورت میں قتل کیا جائے گا
حدیث نمبر: 6495
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ عَوَامِرِ الْبُيُوتِ إِلَّا مَنْ كَانَ مِنْ ذَوِي الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ فَإِنَّهُمَا يَكْمِهَانِ الْأَبْصَارَ وَتُخْدَجُ مِنْهُنَّ النِّسَاءُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو مارنے سے منع کیا ہے،ما سوائے دو سانپوں کے، ایک جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوں اور دوسرا چھوٹی دم والا موذی سانپ، یہ دونوں نظر کو ختم کر دیتے ہیں اور ان کی وجہ سے حاملہ عورتوں کے حمل گر جاتے ہیں۔