حدیث نمبر: 6494
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ قَتْلِ حَيَّاتِ الْبُيُوتِ إِلَّا الْأَبْتَرَ وَذَا الطُّفْيَتَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَخْتَطِفَانِ وَفِي لَفْظٍ يَطْمِسَانِ الْأَبْصَارَ وَيَطْرَحَانِ الْحَمْلَ مِنْ بُطُونِ النِّسَاءِ وَمَنْ تَرَكَهُمَا فَلَيْسَ مِنَّا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھریلو سانپوں کو مارنے سے منع کیا ہے، ماسوائے ان دو سانپوں کے، چھوٹی دم والا موذی سانپ اور جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوں، کیونکہ یہ نظر کا نور اچک لیتے ہیں اور عورتوں کے پیٹ سے حمل گرا کر دیتے ہیں، جوان دونوں کو چھوڑے گا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

وضاحت:
فوائد: … ممکن ہے کہ ان سانپوںکی نظر میں زہریلا مواد ہو اور اس چیز کا بھی احتمال ہے کہ ان کے ڈسنے سے نظر ختم ہو جاتی ہو اور حاملہ عورتوںکے حمل گر جاتے ہیں، ایک معنییہ بھی کیا گیا ہے کہ جب حاملہ عورت ان کی طرف دیکھتی ہے اور ڈرتی ہے تو اس کا حمل گر جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء / حدیث: 6494
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3308، ومسلم: 2232 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24010 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24511»