الفتح الربانی
مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء— قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام
أَبْوَابُ مَا يَجُوزُ قَتْلُهُ مِنَ الْحَيَوَانِ وَمَا لَا يَجُوزُ¤بَابُ الأمْرِ بِقَتْلِ الْفَوَاسِقِ مِنَ الْحَيَوَان باب: اس چیز کے ابواب کہ کون سے حیوان قتل کرنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز فاسق حیوانات کو قتل کرنے کے حکم کا بیان
حدیث نمبر: 6493
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْحَيَّاتُ مَسِيخُ الْجِنِّترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بعض سانپ جنوں سے مسخ شدہ ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … آپ کو علم ہونا چاہیے کہ اس حدیث کا یہ مفہوم نہیں کہ موجودہ سانپ جنوں کی مسخ شدہ شکلیں ہیں۔ اس کا مفہوم تو یہ ہے کہ بعض جنوں کو سانپوں کی شکل میں مسخ کیا گیا تھا، جیسا کہ یہودیوں کو بندروں اور خنزیروں کی شکلوں میں مسخ کیا گیا تھا، لیکن ایسی حالت میں ان کی نسل نہیں ہوئی تھی، جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میںیہ بات ہونے لگی کہ بندر اور خنزیر کس کی مسخ شدہ شکلیں ہیں۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ اللّٰہَ لَمْ یَمْسَخْ شَیْئًا فَیَدَعَ لَہٗنَسْلًااَوْعَاقِبَۃً، وَقَدْ کَانَتِ الْقِرَدَۃُ وَالْخَنَازِیْرُ قَبْلَ ذَالِکَ۔)) (صحیح مسلم) … ’’جب اللہ تعالی کسی مخلوق کو (دوسری مخلوق کی شکل میں) مسخ کرتے ہیں تو اس کی آگے نسل اور اولاد نہیں ہوتی (یعنی وہ اسی مسخ شدہ شکل میں ہلاک ہو جاتی ہے) اور بندر اور خنزیر (جن کے بارے میں تم باتیں کر رہے ہو، یہ تو مسخ شدہ قوموں سے) پہلے بھی تھے۔‘‘