الفتح الربانی
مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء— قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام
أَبْوَابُ مَا يَجُوزُ قَتْلُهُ مِنَ الْحَيَوَانِ وَمَا لَا يَجُوزُ¤بَابُ الأمْرِ بِقَتْلِ الْفَوَاسِقِ مِنَ الْحَيَوَان باب: اس چیز کے ابواب کہ کون سے حیوان قتل کرنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز فاسق حیوانات کو قتل کرنے کے حکم کا بیان
حدیث نمبر: 6492
عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَ الْحَدِيثَ قَالَ كَانَ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْحَيَّاتِ وَيَقُولُ مَنْ تَرَكَهُنَّ خَشْيَةَ أَوْ مَخَافَةَ تَأْثِيرٍ فَلَيْسَ مِنَّا قَالَ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ الْحَيَّاتِ مَسِيخُ الْجِنِّ كَمَا مُسِخَتِ الْقِرَدَةُ مِنْ إِسْرَائِيلَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عکرمہ کہتے ہیں: میرایہی خیالیہ کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مرفوعاً بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سانپوں کو قتل کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: جس نے ان کو ان کی انتقامی کاروائی سے ڈرتے ہوئے چھوڑا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: بیشک سانپ، جنوں کی مسخ شدہ شکلیں ہیں، جیسا کہ بنواسرائیل کو بندروں کی شکلوں میں مسخ کیا گیا تھا۔