حدیث نمبر: 6491
عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ الْجُشَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَا ابْنُ مَسْعُودٍ يَخْطُبُ ذَاتَ يَوْمٍ فَإِذَا هُوَ بِحَيَّةٍ تَمْشِي عَلَى الْجِدَارِ فَقَطَعَ خُطْبَتَهُ ثُمَّ ضَرَبَهَا بِقَضِيبِهِ أَوْ بِقَصَبَةٍ قَالَ يُونُسُ بِقَضِيبِهِ حَتَّى قَتَلَهَا ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ قَتَلَ حَيَّةً فَكَأَنَّمَا قَتَلَ رَجُلًا مُشْرِكًا قَدْ حَلَّ دَمُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو الاحوص جشمی کہتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ خطبہ دے رہے تھے، اچانک انہوں نے دیکھا کہ ایک سانپ دیوار پر چل رہا ہے، انھوں نے اپنے خطاب کو روک دیا اور اپنی چھڑی کے ساتھ اس کو مارنا شروع کردیا،یہاں تک کہ اس کو قتل کر دیا اور پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جس نے سانپ کو مارا، گویا کہ اس نے اس مشرک کو قتل کر دیا، جس کا خون بہانا جائز ہو چکا تھا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء / حدیث: 6491
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابو الاعين العبدي ضعفه يحيي بن معين، وقال ابو حاتم: مجھول، وقال ابن حبان: لا يجوز الاحتجاج به، وورد ھذا الحديث موقوفا واسناده صحيح۔ أخرجه الطيالسي: 315، وابويعلي: 5320، وابن ابي شيبة: 5/ 405، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3996 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3996»