حدیث نمبر: 6485
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ لَيْلَةَ عَرَفَةَ الَّتِي قَبْلَ يَوْمِ عَرَفَةَ إِذْ سَمِعْنَا حِسَّ الْحَيَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((اقْتُلُوهَا))، قَالَ: فَقُمْنَا فَدَخَلَتْ شَقَّ جُحْرٍ، فَأُتِيَ بِسَعَفَةٍ فَأُضْرِمَ فِيهَا نَارًا وَأَخَذْنَا عُودًا فَقَلَعْنَا عَنْهَا بَعْضَ الْجُحْرِ فَلَمْ نَجِدْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((دَعُوهَا وَقَاهَا اللَّهُ شَرَّكُمْ كَمَا وَقَاكُمْ شَرَّهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ عرفہ کے دن سے پہلے والی رات کو مسجد ِ خیف میں بیٹھے ہوئے تھے، اچانک ہم نے سانپ کی حرکت محسوس کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے مار ڈالو۔ ہم اسے مارنے کے لئے کھڑے ہوئے تو وہ ایک پتھر کی دراڑ میں گھس گیا، پس کھجوروں کی شاخیں لائی گئیں اور اس میں آ گ جلائی گئی، پھر ہم نے ایک لکڑی لی اور پتھر کو اس کی جگہ سے کچھ ہٹایا، لیکن وہ سانپ نہ مل سکا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب اسے چھوڑدو، اللہ نے اس کو تمہارے شر سے اور تمہیں اس کے شر سے بچا لیا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … سانپ کو مارنا شرعی حکم ہے، لیکن سانپ کے لیےیہ کسی شرّ سے کم نہیں ہے کہ اس کو مار دیا جائے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے سانپ کو تمہارے شرّ سے محفوظ کر لیا ہے۔ ممکن ہے کہ آگ جلانے کا مقصد یہ ہو کہ سانپ باہر نکل آئے گا، بہرحال آگ سے عذاب دینا ممنوع ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء / حدیث: 6485
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1830،، 4931، 4934، ومسلم: 2234، 2235، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3649»