حدیث نمبر: 6483
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((خَمْسٌ لَا جُنَاحَ عَلَيْهِ وَهُوَ حَرَامٌ، أَنْ يَقْتُلَهُنَّ: الْحَيَّةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْفَأْرَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْحِدَأَةُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) سے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس طرح بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ جانور ایسے ہیں کہ ان کو قتل کرنے میں محرم پر بھی کوئی گناہ نہیں ہے، سانپ، بچھو، چوہیا، کلب ِ عقور اور چیل۔

وضاحت:
فوائد: … ’’اَلْکَلْبُ الْعَقُوْرُ‘‘: حقیقت میں اس لفظ کا اطلاق ہر زخمی کرنے والے اور چیر پھاڑ کرنے والے درندے پر بھی ہوتا ہے، جیسے شیر، چیتا، بھیڑیا۔ درندگی میں اشتراکیت کی وجہ سے ان کو بھی ’’کَلْب‘‘ کہتے ہیں۔ (تحفۃ الاحوذی) ہڑکائے ہوئے اور باؤلے کتے کا بھییہی حکم ہو گا۔
امام مالک نے ’’المؤطا‘‘ میںکہا: ہر وہ جانور جو لوگوں کوکاٹے، ان پر حملہ کرے اوران کو ڈرائے، مثلا: شیر، چیتا، فہد، بھیڑیا، وہ عَقُور ہے۔ (فہد،چیتے کی طرح کا ایک درندہ ہوتا ہے)
ابو عبیدہ نے سفیان سے یہی قول نقل کیا ہے اور یہی جمہور اہل علم کی رائے ہے۔
ان جانوروں کے لیے لفظ ’’فَاسِق‘‘ استعمال ہوا، اس کا لفظی معنی ہے نکلنے والا، یہاں اس سے مراد وہ جانور ہیں کہ تکلیف پہنچانے اور افساد انگیزی کی وجہ سے جن کا حکم دوسرے جانوروں کے حکم سے خارج ہو گیا ہے۔
اس باب کی احادیث ِ صحیحہ میں درج ذیل کل سات جانوروں کا ذکر ہوا ہے: بچھو، کوا، چیل، چوہا، کلب ِ عقور، سانپ، بھیڑیا
کیا ان کے علاوہ کسی جانور کو قتل نہیں کیا جا سکتا؟ حافظ ابن حجر کہتے ہیں: روایات کے مطابق پانچ جانوروں کو مقید کرنا، اگرچہ اس کے مفہوم میں خصوصیت پائی جاتی ہے، لیکنیہ مفہوم العدد ہے، جو اکثر اہل علم کے نزدیک حجت نہیں ہے، اگر اس کی حجیّت تسلیم کر لیں تو اس کو اس معنی پر محمول کیا جائے گا کہ شروع شروع میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ جانوروں کے بارے میں ہی حکم دیا، بعد میں ان میں اضافہ کر دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کے بعض طرق میں ’’چار‘‘ کا اور بعض میں ’’چھ‘‘ کا لفظ روایت کیا گیا ہے، ’’چار‘‘ کی روایت صحیح مسلم میں ہے، اس میں بچھو کا ذکر نہیں ہے اور ’’چھ‘‘ کی روایت مستخرج ابو عوانہ میں ہے، اس میں بچھو کا ذکر موجود ہے اور سانپ کا اضافہ کیا گیا ہے، صحیح مسلم کی شیبان کی روایت اس روایت کا شاہد ہے، اگرچہ اس میں کسی عدد کا ذکر نہیں ہے، …۔ (فتح الباری: ۴/ ۴۴)
جن روایات میں خون خوار درندے اور چیتے وغیرہ کے الفاظ ہیں، ان پر نقد کیا گیا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ بالا جن جانوروں کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے یہ جانور انسان کے لیے ضرر، نقصان، تکلیف، خوف اور فساد کا سبب بن سکتے ہیں، بلکہ اِن کی وجہ سے انسان کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے، اس لیے جس جانور میںیہ وصف پایا جائے، محرِم و غیر محرِم کو یہ حق حاصل ہو گا کہ وہ اس کو حرم میں قتل کر دے، جبکہ کلب ِ عقور کا مفہوم بھییہی بنتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء / حدیث: 6483
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1199، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5107 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5107»