حدیث نمبر: 6479
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِجِدَارٍ أَوْ حَائِطٍ مَائِلٍ فَأَسْرَعَ الْمَشْيَ فَقِيلَ لَهُ فَقَالَ إِنِّي أَكْرَهُ مَوْتَ الْفَوَاتِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ایسی دیوار کے پاس سے گزرے جو ایک جانب جھکی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے تیزی سے گزر گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس جلدی کی وجہ دریافت کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اچانک موت کو ناپسند کرتا ہوں۔

وضاحت:
فوائد: … بظاہر تو کہا جا سکتا ہے کہ اچانک موت اللہ تعالی کے غضب کی نشانی ہے، کیونکہ اس طرح سے توبہ تائب ہونے کا موقع نہیں ملتا اور آدمی بیماری کی وجہ ملنے والی بلندیٔ درجات سے محروم ہو جاتا ہے، لیکن چونکہ مؤمن ہر وقت موت کی تیاری میں ہوتا ہے، اس لیے اچانک موت اس کے لیے غضب ِ الہی کا باعث نہیں ہوتی، درج ذیل روایت پر غور کریں: سیدنا عبید اللہ بن خالد سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَوْتُ الْفُجَاء َۃ أَخْذَۃُ الْأَسَفِ۔))
رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ وَزَادَ الْبَیْہَقِیُّ فِی شُعَبِ الْإِیمَانِ وَرَزِینٌ فِی کِتَابِہِ: ((أَخْذَۃُ الْأَسِفِ لِلْکَافِرِ وَرَحْمَۃٌ لِلْمُؤمنِ۔)) … ’’اچانک موت ناراضی کی پکڑ ہے۔‘‘ (ابوداود: ۳۱۱۰) امام بیہقی نے ’’شعب الایمان‘‘ میں اور رزین نے اپنی کتاب میں اس روایت کو زیادہ الفاظ کے ساتھ یوں بیان کیا ہے: ’’اچانک کافر کے لیے ناراضی کی پکڑ ہے، لیکن مؤمن کے لیے رحمت ہے۔‘‘ (قال الالبانی فی المشکوۃ: صحیح)
ہاںیہ الگ بات ہے کہ ایسے اسباب سے مکمل گریز کرنا چاہیے، جو اچانک موت کا واضح طور پر سبب بن سکتے ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء / حدیث: 6479
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا، ابراهيم بن اسحاق المدني ضعفه غير واحد من الائمة، وقال البخاري: منكر الحديث، وقال الدارقطني: متروك۔ أخرجه ابويعلي: 6612، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8666 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8651»