الفتح الربانی
مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء— قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام
بَابُ وَعِيدِ مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ باب: خود کشی کرنے پر وعید کا بیان، وہ جس چیز سے مرضی خود کشی کرے
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ مَنْ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ مِمَّنْ مَعَهُ إِنَّ هَذَا لَمِنْ أَهْلِ النَّارِ فَلَمَّا حَضَرَ الْقِتَالُ قَاتَلَ الرَّجُلُ أَشَدَّ الْقِتَالِ حَتَّى كَثُرَتْ بِهِ الْجِرَاحُ فَأَتَاهُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ الَّذِي ذَكَرْتَ أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَقَدْ وَاللَّهِ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَشَدَّ الْقِتَالِ وَكَثُرَتْ بِهِ الْجِرَاحُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ وَكَادَ بَعْضُ الصَّحَابَةِ أَنْ يَرْتَابَ فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ وَجَدَ الرَّجُلُ أَلَمَ الْجِرَاحِ فَأَهْوَى بِيَدِهِ إِلَى كِنَانَتِهِ فَانْتَزَعَ مِنْهَا سَهْمًا فَانْتَحَرَ بِهِ فَاشْتَدَّ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَدْ صَدَقَ اللَّهُ حَدِيثَكَ قَدِ انْتَحَرَ فُلَانٌ فَقَتَلَ نَفْسَهُ۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خیبر میں شریک ہونے والے ایک صحابی نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ساتھ والے ایک آدمی کے متعلق یہ فرمایا کہ یہ آدمی دوزخیوں میں سے ہے۔ لیکن جب لڑائی شروع ہوئی تو اس آدمی نے بڑی زبردست لڑائی لڑی اور اس کو بہت زیادہ زخم آئے۔ کچھ صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! جس آدمی کے بارے میں آپ نے فرمایا تھا کہ وہ جہنمی لوگوں میں سے ہے، اس نے تو اللہ کی قسم! بہت شاندار لڑائی لڑی ہے اور اس کو بہت زیادہ زخم بھی آئے ہیں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر وہی بات دوہرا دی کہ وہ شخص دوزخیوں میں سے ہے۔ اس بات سے ممکن تھا کہ بعض صحابہ اپنے دین کے معاملے میں شک میں پڑ جاتے، لیکن اسی دوران ہی اس آدمی نے زخم کی تکلیف محسوس کی اور اپنا ہاتھ ترکش کی طرف جھکایا، اس میں سے ایک تیر نکالا اور اپنے آپ کو ذبح کر دیا،ایک مسلمان دوڑتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچا اور کہا: اے اللہ کے نبی! اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات کو سچا ثابت کر دیا ہے، اس آدمی نے خود کو ذبح کر کے خودکشی کر لی ہے۔
لیکن اس تاویل کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ وہ اعتقادی منافق تھا، جہنمی ہونے کے لیےیہ لازم نہیں کہ وہ اعتقادی منافق ہو، کیونکہ ایسے جہنمی بھی ہوں گے، جو اپنے ایمان کی وجہ سے بالآخر جہنم سے نکال دیئے جائیں گے۔
(عبد اللہ رفیق)
یہ نقطہ ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ نفس انسانی مطلق طورپر انسان کی ملکیت نہیں ہے، اس کا حقیقی مالک اللہ تعالیٰ ہے، انسان اس میں اتنا تصرف کر سکتا ہے، جتنی اللہ تعالی نے اس کو اجازت دی ہے،انسان کو تو یہ حق بھی نہیں دیا گیا کہ وہ اس وجود کے ذریعے اللہ تعالی کی معصیت والا کام کرے، چہ جائیکہ وہ اس وجود کو ہی ختم کر ڈالے۔