حدیث نمبر: 6474
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَاتَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاتَ فُلَانٌ قَالَ لَمْ يَمُتْ ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ ثُمَّ الثَّالِثَةَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ مَاتَ قَالَ نَحَرَ نَفْسَهُ بِمِشْقَصٍ قَالَ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ وَفِي لَفْظٍ قَالَ إِذًا لَا أُصَلِّي عَلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے عہد رسالت میں ایک آدمی فوت ہوگیا، ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوااور کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں آدمی فوت ہوگیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ابھی تک نہیں مرا۔ پھر وہ آدمی دوسری مرتبہ اور پھر تیسری مرتبہ آیا اور وہی بات کہی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: وہ کس طرح مرا ہے؟ اس نے کہا: جی اس نے خود کو نیزہ مار کر ذبح کر دیا ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی، ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تب میں اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھوں گا۔

وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نمازِ جنازہ نہ پڑھنا، یہ ایک تادیبی کاروائی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مقام پر اپنے عمل کے ذریعے اس فعل کی سنگینی کو بیان کرنا چاہتے تھے، تاکہ لوگ عبرت حاصل کریں، وگرنہ حدیث نمبر (۶۴۷۰) کے فوائد میں دی گئی حدیث کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کے لیے مغفرت کی دعا کی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء / حدیث: 6474
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مطولا و مختصرا مسلم: 978، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20816 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21101»