حدیث نمبر: 6473
عَنْ جُنْدُبِ بْنِ الْبَجَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَصَابَتْهُ جِرَاحَةٌ فَحُمِلَ إِلَى بَيْتِهِ فَآلَمَتْهُ جِرَاحَتُهُ فَاسْتَخْرَجَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ فَطَعَنَ بِهِ فِي لَبَّتِهِ فَذَكَرُوا ذَلِكَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ فِيمَا يَرْوِي عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ سَابَقَنِي بِنَفْسِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جندب بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی زخمی ہوگیا، اسے اٹھاکر گھر لایا گیا، اس کے زخموں نے اسے بے تاب کر دیا اور اس نے اپنے ترکش سے تیر نکالا اور اپنے حلق میں پیوست کر دیا، جب لوگوں نے اس بات کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالی سے روایت کرتے ہوئے فرمایا: میرے بندے نے اپنے نفس کے معاملے میں مجھ سے سبقت لی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث صحیح بخاری (۳۴۶۳) اور صحیح مسلم(۱۱۳) میں سیدنا جندب رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے ساتھ مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((کَانَ فِیمَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ رَجُلٌ بِہِ جُرْحٌ فَجَزِعَ فَأَخَذَ سِکِّینًا فَحَزَّ بِہَا یَدَہُ فَمَا رَقَأَ الدَّمُ حَتّٰی مَاتَ، قَالَ اللَّہُ تَعَالٰی بَادَرَنِی عَبْدِی بِنَفْسِہِ حَرَّمْتُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ۔)) … ’’تم سے پہلے ایک آدمی تھا، اس کو کوئی زخم آ گیا، لیکن اس نے بے صبری کی اور چھری لے کر اپنے ہاتھ کو کاٹ دیا، پس خون نہ رکا، یہاں تک کہ وہ مر گیا، اللہ تعالی نے کہا: میرے بندے نے اپنے نفس کے معاملے میں مجھ سے سبقت لینا چاہاہے، پس میں نے اس پر جنت کو حرام کر دیا ہے۔‘‘
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء / حدیث: 6473
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «حديث ضعيف بھذه السياقة لضعف عمران القطان ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18800 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19007»