الفتح الربانی
مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء— قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام
بَابُ وَعِيدِ مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ باب: خود کشی کرنے پر وعید کا بیان، وہ جس چیز سے مرضی خود کشی کرے
حدیث نمبر: 6470
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِحَدِيدَةٍ فَحَدِيدَتُهُ بِيَدِهِ يَجَأُ بِهَا فِي بَطْنِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِسَمٍّ فَسَمُّهُ بِيَدِهِ يَتَحَسَّاهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا، وَمَنْ تَرَدَّى مِنْ جَبَلٍ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَهُوَ يَتَرَدَّى فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی لوہے کے ساتھ خودکشی کی، تو اس کا وہ لوہا اس کے ہاتھ میں ہوگا اور وہ دوزخ کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ اسے اپنے پیٹ میں مارتا رہے گا،جس نے زہر سے خودکشی کی، تو اس کا وہ زہر اس کے ہاتھ میں ہوگا اور وہ دوزخ کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کو پیتا رہے گا اور جس نے پہاڑ سے گر کر خود کشی کی تو وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پہاڑ سے گرتا ہی رہے گا۔
وضاحت:
فوائد: … خود کشی حرام ہے، دنیا میں کوئی ایسی تکلیف اور آزمائش نہیں ہے، جس کی بنا پر خود کشی کو جائز سمجھا جا سکے، جن صحابہ کو اسلام کے جرم کی وجہ سے سنگین آزمائشوں کی بھٹیوں سے گزرنا پڑا، ان کی مثالیں واضح ہیں، اللہ تعالی بناتِ اسلام کی عزت و حرمت کو محفوظ فرمائے، جب ان کے ساتھ زیادتی کی جاتی ہے تو وہ خود کشی کو ترجیح دینے لگتی ہیں، لیکن ایسا کرنا درست نہیں ہے، اس زیادتی میں سرے سے ان کا گناہ ہی نہیں ہے، ان کو اپنا معاملہ اللہ تعالی کے سپرد کر کے صبر کرنا چاہیے، اللہ تعالی ایسے مجرموں کو ہدایت دے دے، وگرنہ ان کو ہلاک و برباد کر دے۔ (آمین)دوسری نصوص سے معلوم ہوتا ہے کہ خود کشی مسلمان کے لیے قابل معافی جرم ہے، ایک دلیل درج ذیل ہے: فَلَمَّا ہَاجَرَ النَّبِیُّV إِلَی الْمَدِینَۃِ ہَاجَرَ إِلَیْہِ الطُّفَیْلُ بْنُ عَمْرٍو وَہَاجَرَ مَعَہُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِہِ
فَاجْتَوَوُا الْمَدِینَۃَ فَمَرِضَ فَجَزِعَ فَأَخَذَ مَشَاقِصَ لَہُ فَقَطَعَ بِہَا بَرَاجِمَہُ فَشَخَبَتْ یَدَاہُ حَتّٰی مَاتَ فَرَآہُ الطُّفَیْلُ بْنُ عَمْرٍو فِی مَنَامِہِ فَرَآہُ وَہَیْئَتُہُ حَسَنَۃٌ وَرَآہُ مُغَطِّیًایَدَیْہِ۔ فَقَالَ لَہُ: ((مَا صَنَعَ بِکَ رَبُّکَ۔)) فَقَالَ غَفَرَ لِی بِہِجْرَتِی إِلَی نَبِیِّہِV، فَقَالَ: مَا لِی أَرَاکَ مُغَطِّیًایَدَیْکَ؟ قَالَ: قِیلَ لِی: لَنْ نُصْلِحَ مِنْکَ مَا أَفْسَدْتَ، فَقَصَّہَا الطُّفَیْلُ عَلٰی رَسُولِ اللَّہِV فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((اللَّہُمَّ وَلِیَدَیْہِ فَاغْفِرْ۔)) … ’’جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تو سیدنا طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ نے بھی ہجرت کی اور ان کے ساتھ ایک آدمی بھی تھا، پس ان لوگوں نے مدینہ منورہ کی آب و فضا کو ناموافق پایا اور وہ آدمی بیمار ہو گیا اور بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس نے پھل پکڑا اور اپنی انگلیوں کے جوڑوں کو کاٹ دیا، خون بہتا رہا، یہاں تک کہ وہ بندہ مر گیا، اس کے بعد سیدنا طفیل نے اس کو خواب میں اس طرح دیکھا کہ اس کی حالت بہت اچھی تھی، لیکن اس نے دونوں ہاتھوں کو ڈھانپا ہوا تھا، سیدنا طفیل رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تیرے ربّ نے تیرے ساتھ کیا سلوک کیا ہے؟ اس نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف میری ہجرت کی وجہ سے اللہ تعالی نے مجھے بخش دیا ہے، سیدنا طفیل نے کہا: ہاتھوں کو کیوں ڈھانپا ہوا ہے؟ انھوں نے کہا: مجھے کہا گیا کہ جو چیز تو نے خود خراب کی ہے، ہم اس کی اصلاح نہیں کریں گے۔‘‘ پھر جب سیدنا طفیل نے نبی کریم کو خواب والا یہ واقعہ سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے اللہ اس کے ہاتھوں کو بھی بخش دے۔‘‘ (صحیح مسلم: ۱۱۶)
ہم جس حدیث کی شرح بیان کر رہے ہیں، اس کی اور اس طرح کی دوسری احادیث کی درج ذیل تاویلات کی جا سکتی ہیں: (۱) ان میں زجرو توبیخ کا بیان ہے تاکہ خود کشی کی قباحت و شناعت واضح ہو سکے۔
(۲) اگر اللہ تعالی ایسے شخص کو کامل سزا دینا چاہے تو وہ اسی سزا کا مستحق ہو گا، لیکن اللہ تعالی اپنے مؤحد بندوں پر کرم کرے گا اور ان کو کچھ عرصہ کے بعد جہنم سے نکال لے گا۔
(۳) ہمیشگی سے مراد طویل زمانہ ہے۔
فَاجْتَوَوُا الْمَدِینَۃَ فَمَرِضَ فَجَزِعَ فَأَخَذَ مَشَاقِصَ لَہُ فَقَطَعَ بِہَا بَرَاجِمَہُ فَشَخَبَتْ یَدَاہُ حَتّٰی مَاتَ فَرَآہُ الطُّفَیْلُ بْنُ عَمْرٍو فِی مَنَامِہِ فَرَآہُ وَہَیْئَتُہُ حَسَنَۃٌ وَرَآہُ مُغَطِّیًایَدَیْہِ۔ فَقَالَ لَہُ: ((مَا صَنَعَ بِکَ رَبُّکَ۔)) فَقَالَ غَفَرَ لِی بِہِجْرَتِی إِلَی نَبِیِّہِV، فَقَالَ: مَا لِی أَرَاکَ مُغَطِّیًایَدَیْکَ؟ قَالَ: قِیلَ لِی: لَنْ نُصْلِحَ مِنْکَ مَا أَفْسَدْتَ، فَقَصَّہَا الطُّفَیْلُ عَلٰی رَسُولِ اللَّہِV فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((اللَّہُمَّ وَلِیَدَیْہِ فَاغْفِرْ۔)) … ’’جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تو سیدنا طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ نے بھی ہجرت کی اور ان کے ساتھ ایک آدمی بھی تھا، پس ان لوگوں نے مدینہ منورہ کی آب و فضا کو ناموافق پایا اور وہ آدمی بیمار ہو گیا اور بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس نے پھل پکڑا اور اپنی انگلیوں کے جوڑوں کو کاٹ دیا، خون بہتا رہا، یہاں تک کہ وہ بندہ مر گیا، اس کے بعد سیدنا طفیل نے اس کو خواب میں اس طرح دیکھا کہ اس کی حالت بہت اچھی تھی، لیکن اس نے دونوں ہاتھوں کو ڈھانپا ہوا تھا، سیدنا طفیل رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تیرے ربّ نے تیرے ساتھ کیا سلوک کیا ہے؟ اس نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف میری ہجرت کی وجہ سے اللہ تعالی نے مجھے بخش دیا ہے، سیدنا طفیل نے کہا: ہاتھوں کو کیوں ڈھانپا ہوا ہے؟ انھوں نے کہا: مجھے کہا گیا کہ جو چیز تو نے خود خراب کی ہے، ہم اس کی اصلاح نہیں کریں گے۔‘‘ پھر جب سیدنا طفیل نے نبی کریم کو خواب والا یہ واقعہ سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے اللہ اس کے ہاتھوں کو بھی بخش دے۔‘‘ (صحیح مسلم: ۱۱۶)
ہم جس حدیث کی شرح بیان کر رہے ہیں، اس کی اور اس طرح کی دوسری احادیث کی درج ذیل تاویلات کی جا سکتی ہیں: (۱) ان میں زجرو توبیخ کا بیان ہے تاکہ خود کشی کی قباحت و شناعت واضح ہو سکے۔
(۲) اگر اللہ تعالی ایسے شخص کو کامل سزا دینا چاہے تو وہ اسی سزا کا مستحق ہو گا، لیکن اللہ تعالی اپنے مؤحد بندوں پر کرم کرے گا اور ان کو کچھ عرصہ کے بعد جہنم سے نکال لے گا۔
(۳) ہمیشگی سے مراد طویل زمانہ ہے۔