الفتح الربانی
مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء— قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام
بَاب تَحْرِيم قَتْلِ الْمُعَاهِدِ وَأَهْلِ اللمَّةِ وَالتَّشْدِيدِ فِي ذلِكَ باب: ذمیوں اورمعاہدہ والوں کے قتل کے حرام ہونے اور اس معاملے میں سختی کا بیان
حدیث نمبر: 6467
عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ عَنْ رَجُلٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((سَيَكُونُ قَوْمٌ لَهُمْ عَهْدٌ فَمَنْ قَتَلَ رَجُلًا مِنْهُمْ لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ سَبْعِينَ عَامًا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ہلال بن یساف ایک صحابی سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایسی قومیں آئیں گی، جن کے ساتھ تمہارے معاہدے ہوں گے، جس نے ان میں سے کسی کو قتل کر دیا تو وہ جنت کی خوشبو تک نہ پائے گا اور جنت کی خوشبو ستر سال کی مسافت پر پائی جاتی ہے۔