الفتح الربانی
مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء— قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام
بَاب تَحْرِيم قَتْلِ الْمُعَاهِدِ وَأَهْلِ اللمَّةِ وَالتَّشْدِيدِ فِي ذلِكَ باب: ذمیوں اورمعاہدہ والوں کے قتل کے حرام ہونے اور اس معاملے میں سختی کا بیان
حدیث نمبر: 6466
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے معاہدہ والوں میں سے کسی کو قتل کر دیا، وہ جنت کی خوشبو تک نہیں پائے گا اور چالیس سال کی مسافت تک جنت کی خوشبو پائی جاتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اسلام نے معاہدوں کی پاسداری کرنے پر بڑا زور دیا ہے اور اس معاملے میں کافر اور مسلمان کی بھی کوئی تمیز نہیں کی، اگر کوئی ادنی مسلمان بھی کسی کافر سے کوئی معاہدہ کر لیتا ہے یا اس کو پناہ دے دیتا ہے تو تمام مسلمانوں پر فرض ہو جاتا ہے کہ وہ اس معاہدے کے تقاضوں کو پورا کریں۔