حدیث نمبر: 6465
عَنْ أَبِي سَوَّارٍ الْقَاضِي يَقُولُ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ: أَغْلَظَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَرْزَةَ: أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَهُ؟ قَالَ: فَانْتَهَرَهُ وَقَالَ: مَا هِيَ لِأَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بڑے سخت لہجے میں بات کی، سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں اس کی گردن نہ اڑا دوں۔ لیکن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کو ڈانٹا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد یہ چیز کسی کے لیے جائز نہیں ہے۔

وضاحت:
فوائد: … اس موقوف حدیث کا پس منظر یہ ہے: عَنْ أَبِی بَرْزَۃَ، قَالَ: کُنْتُ عِنْدَ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ، فَتَغَیَّظَ عَلٰی رَجُلٍ، فَاشْتَدَّ عَلَیْہِ، فَقُلْتُ: تَأْذَنُ لِییَا خَلِیفَۃَ رَسُولِ اللَّہِ! أَضْرِبُ عُنُقَہُ؟ قَالَ: فَأَذْہَبَتْ کَلِمَتِی غَضَبَہُ، فَقَامَ، فَدَخَلَ، فَأَرْسَلَ إِلَیَّ، فَقَالَ: مَا الَّذِی قُلْتَ آنِفًا؟ قُلْتُ: اِئْذَنْ لِی أَضْرِبُ عُنُقَہُ، قَالَ: أَکُنْتَ فَاعِلًا لَوْ أَمَرْتُکَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: لَا وَاللَّہِ، مَا کَانَتْ لِبَشَرٍ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: ہَذَا لَفْظُ یَزِیدَ، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: أَیْ لَمْ یَکُنْ لِأَبِی بَکْرٍ أَنْ یَقْتُلَ رَجُلًا إِلَّا بِإِحْدَی الثَّلَاثِ الَّتِی قَالَہَا رَسُولُ اللَّہV: ((کُفْرٌ بَعْدَ إِیمَانٍ، أَوْ زِنًا بَعْدَ إِحْصَانٍ، أَوْ قَتْلُ نَفْسٍ بِغَیْرَ نَفْسٍ۔)) وَکَانَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یَقْتُلَ۔
سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، ان کو ایک شخص پر غصہ آیا، اس نے جواباً سخت جملے کہے، میں نے کہا: اے خلیفۂ رسول! کیا آپ مجھے اجازت دیں گے کہ میں اس کو قتل کر دوں؟ میری اس بات سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا غصہ تھم گیا اور وہ کھڑے ہو کر گھر چلے گئے، پھر مجھے بلا بھیجا اور کہا: تو نے ابھی کیا کہا تھا؟ میں نے کہا: جی میں نے کہا تھا کہ آپ مجھے اجازت دیں، میں اس کی گردن اڑا دیتا ہوں، انھوں نے کہا: اگر میں تجھے حکم دے دیتا تو کیا تو نے ایسا کر دینا تھا؟ میں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ حق کسی کو حاصل نہیں ہے۔ امام احمد بن حنبل نے اس جملے کا مفہوم بیان کرتے ہوئے کہا: یعنی سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو یہ حق
حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی کو قتل کرے، ماسوائے ان تین صورتوں کے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ایمان کے بعد کفر، شادی کے بعد زنا اور کسی نفس کے بغیر کسی جان کو ناحق قتل کرنا۔‘‘ یہ حق صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے شخص کو قتل کر سکتے تھے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں گستاخی کی سزا قتل ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء / حدیث: 6465
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 4363، والنسائي: 7/108، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 54 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 54»