الفتح الربانی
مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء— قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام
بَابُ مَا يُبيحُ دَمَ الْمُسْلِمِ باب: مسلمان کا خون کو جائز قرار دینے والے امور کا بیان
حدیث نمبر: 6464
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَقُولُ: ((مَنْ أَشَارَ بِحَدِيدَةٍ إِلَى أَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُرِيدُ قَتْلَهُ فَقَدْ وَجَبَ دَمُهُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی مسلمان کی جانب قتل کے ارادہ سے لوہے کے ساتھ اشارہ کیا تو اس کے خون کا ضیاع ثابت ہو جائے گا (یعنی اس کی حرمت ختم ہو جائے اور دفاع میں اس کو قتل کرنا جائز ہو جائے گا)۔
وضاحت:
فوائد: … ممکن ہے کہ جس آدمی کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہو، وہ اپنے دفاع کے ارادے سے آگے بڑھے اور اشارہ کرنے والا قتل ہو جائے اور اس کے جسم کا کوئی اور نقصان ہو جائے، ایسی صورت میں اس کا خون یا نقصان رائیگاں ہو جائے گا اور اس کو دیتیا قصاص لینے کا کوئی حق حاصل نہیں ہو گا۔