الفتح الربانی
مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء— قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام
بَابُ مَا يُبيحُ دَمَ الْمُسْلِمِ باب: مسلمان کا خون کو جائز قرار دینے والے امور کا بیان
حدیث نمبر: 6461
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، لَا يَحِلُّ دَمُ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، إِلَّا ثَلَاثَةُ نَفَرٍ: التَّارِكُ الْإِسْلَامَ، وَالْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ، وَالثَّيِّبُ الزَّانِي، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ)) قَالَ: الْأَعْمَشُ: فَحَدَّثْتُ بِهِ إِبْرَاهِيمَ فَحَدَّثَنِي عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ بِمِثْلِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے! جو آدمی یہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ تعالی ہی معبودِ برحق ہے اور میں محمد اللہ کا رسول ہوں، اس کا خون حلال نہیں ہے، ما سوائے تین افراد کے: (۱)اسلام کو چھوڑنے والا اور جماعت سے علیحدہ ہو جانے والا، (۲) شادی شدہ زانی اور (۳) جان کے عوض قتل کیا جانے والا۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ اسلام تین افراد کو قتل کرنے کا حکم دیتا ہے: مرتدّ، شادی شدہ زانی اور مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرنے والا، لیکن ان حدود کے نفاذ کا تعلق اسلامی حکمران اور خلیفہ سے ہے، کوئی آدمی انفرادی طور پر یہ کاروائی نہیں کر سکتا۔