الفتح الربانی
أبواب الوضوء— وضو کے ابواب
بَابٌ فِي الْمَضْمَضَةِ وَالِاسْتِنْشَاقِ وَالِاسْتِثْنَارِ باب: کلی کرنے، ناک میں پانی چڑھانے اور اس کو جھاڑنے کا بیان
حدیث نمبر: 646
عَنْ لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَخْبِرْنِي عَنِ الْوُضُوءِ، قَالَ: ((إِذَا تَوَضَّأْتَ فَأَسْبِغْ وَخَلِّلِ الْأَصَابِعَ وَإِذَا اسْتَنْشَقْتَ فَأَبْلِغْ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ”اے اللہ کے رسول! آپ مجھے وضو کے بارے میں بتائیں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو وضو کرے تو مکمل وضو کر، انگلیوں میں خلال کر اور جب تو ناک میں پانی چڑھائے تو اس میں مبالغہ کر، الا یہ کہ تو روزے دار ہو۔“
وضاحت:
فوائد: … ناک میں مبالغہ کے ساتھ پانی چڑھانے سے بعض دفعہ پانی کے قطرے حلق میں اتر آتے ہیں، اس وجہ سے روزے دار کو اس سلسلے میں مبالغہ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔