الفتح الربانی
مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء— قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام
بَابُ وَعِيدِ مَنْ حَمَلَ السَلاحَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ باب: مسلمانوں پر ہتھیار اٹھانے والے کی وعید کا بیان
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُمَيْرَةَ قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَإِذَا نَحْنُ بِرَأْسٍ مَنْصُوبٍ عَلَى خَشَبَةٍ، قَالَ: فَقَالَ: شَقِيَ قَاتِلُ هَذَا، قَالَ: قُلْتُ: أَنْتَ تَقُولُ هَذَا، يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ فَشَدَّ يَدَهُ مِنِّي، وَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِذَا مَشَى الرَّجُلُ مِنْ أُمَّتِي إِلَى الرَّجُلِ لِيَقْتُلَهُ فَلْيَقُلْ هَكَذَا، فَالْمَقْتُولُ فِي الْجَنَّةِ وَالْقَاتِلُ فِي النَّارِ))۔ عبد الرحمن بن سمیرہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ چل رہا تھا، اچانک ہم نے ایک سر دیکھا، جس کو ایک لکڑی پر لٹکایا گیا تھا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اس کا قاتل بد بخت ہوا، میں نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! کیا تم یہ کہہ رہے ہو؟ انھوں نے اپنا ہاتھ مجھ سے چھڑاتے ہوئے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت میں سے جب کوئی آدمی دوسرے کو قتل کرنے چلتا ہے تو قتل ہونے والا (آدم علیہ السلام کے بیٹے کی طرح) اس طرح کہے (اور ہاتھ نہ بڑھائے)، کیونکہ وہ مقتول جنت میں ہوگا اور قاتل دوزخ میں۔