الفتح الربانی
مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء— قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام
بَابُ التَّعْلِيظِ وَالْوَعِيدِ الشَّدِيدِ فِي قَتْلِ الْمُؤْمِنِ باب: مؤمن کے قتل پر سخت وعید اور سختی کا بیان
حدیث نمبر: 6452
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ قَتَلَهُ نَبِيٌّ أَوْ قَتَلَ نَبِيًّا وَإِمَامُ ضَلَالَةٍ وَمُمَثِّلٌ مِنَ الْمُمَثِّلِينَ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روز قیامت لوگوں میں سے سب سے زیادہ سخت عذاب اس آدمی کو ہوگا، جسے نبی نے قتل کیایا جس نے نبی کو قتل کیا ہو اور ضلالت و گمراہی کا پیشوا اور تصویریں بنانے والا۔
وضاحت:
فوائد: … انبیائے کرام کا سلسلہ منقطع ہو جانے کی وجہ سے ہم مستقل طور پر پہلے دو جرائم سے محفوظ ہو گئے ہیں، ہاں مسلمان کو چاہیے کہ وہ کسی کی گمراہی کا سبب نہ بنے، اگر خیر و بھلائی والے امور کو نافذ کر سکتا ہے تو ٹھیک، وگرنہ خاموشی اور لوگوں کے امور سے کنارہ کشی اختیار کرے، اس طرح تصویریں بنانے سے بھی باز رہے جو کہ اس دور کا سب سے بڑا فتنہ ہے، ہمارے بچوں کی تعلیم کے آغاز میں ہییہ سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور آگے چل کر ایک مستقل شعبہ کی شکل اختیار کر لیتا ہے، فَاِلَی اللّٰہِ الْمُشْکَیٰ (بس اللہ تعالی کی طرف ہیشکوہ ہے)، ہم اللہ تعالی سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔