الفتح الربانی
مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء— قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام
بَابُ التَّعْلِيظِ وَالْوَعِيدِ الشَّدِيدِ فِي قَتْلِ الْمُؤْمِنِ باب: مؤمن کے قتل پر سخت وعید اور سختی کا بیان
حدیث نمبر: 6450
عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحَارِثِ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَشْهَدَنَّ أَحَدُكُمْ قَتِيلًا لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ قَدْ قُتِلَ ظُلْمًا فَيُصِيبَهُ السُّخْطُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا خرشہ بن حارث رضی اللہ عنہ ، جو کہ صحابہ میں سے تھے، سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی کسی کے قتل کے وقت حاضر نہ ہو، کیونکہ ہوسکتا ہے اسے ظلماً قتل کیا جا رہا ہو اور اس طرح حاضر ہونے والے کو بھی اللہ تعالی کی ناراضگی پہنچ جائے۔
وضاحت:
فوائد: … اس موضوع سے متعلقہ اسلامی ہدایات واضح ہیں، اگر اسلام کے قوانین کے مطابق قتل کیا جا رہا ہو، تو وہاں ٹھہرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، جیسے قاتل اور مرتدّ کو قتل کرنا اور اگر ظلماً قتل کیا جا رہا ہے تو ایسا کرنے سے عملی طور پر اور یہ طاقت نہ ہونے کی صورت میں زبان سے روکا جائے، وگرنہ دل سے برا سمجھا جائے اور جس مقام میںیہ ظلم کیا جا رہا ہے، اس شرّ والی جگہ سے دور رہا جائے۔