الفتح الربانی
مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء— قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام
بَابُ التَّعْلِيظِ وَالْوَعِيدِ الشَّدِيدِ فِي قَتْلِ الْمُؤْمِنِ باب: مؤمن کے قتل پر سخت وعید اور سختی کا بیان
حدیث نمبر: 6447
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَنْ يَزَالَ الْمَرْءُ فِي فُسْحَةٍ مِنْ دِينِهِ مَا لَمْ يُصِبْ دَمًا حَرَامًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی اس وقت تک دین کے معاملے میں یعنی نیکیاں کرنے میں وسعت میں رہتا ہے، جب تک حرام خون بہانے کا ارتکاب نہیں کرتا۔
وضاحت:
فوائد: … ویسے تو ہر قسم کے شرّ سے خیر والے معاملات متأثر ہو جاتے ہیں، لیکن قتل ایسا سنگین جرم ہے کہ اس سے نیکیوں کا سلسلہ تنگ ہو جاتا ہے، الا یہ کہ خلوص دل سے توبہ کر لی جائے، جیسا کہ سو افراد کے قاتل کا واقعہ مشہور ہے۔