حدیث نمبر: 6442
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَيُّ يَوْمٍ أَعْظَمُ حُرْمَةً قَالُوا يَوْمُنَا هَذَا قَالَ فَأَيُّ شَهْرٍ أَعْظَمُ حُرْمَةً قَالُوا شَهْرُنَا هَذَا قَالَ فَأَيُّ بَلَدٍ أَعْظَمُ حُرْمَةً قَالَ بَلَدُنَا هَذَا قَالَ فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جابربن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر لوگوں سے پوچھا: وہ کون سا دن ہے، جس کی حرمت سب سے زیادہ ہے؟ انہوں نے کہا: یہی ہمارا دن۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ کون سا مہینہ ہے، جس کی حرمت سب سے زیادہ ہے۔ انھوں نے کہا: یہی ہمارا ذوالحجہ کا مہینہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ کونسا شہر ہے، جس کی حرمت سب سے زیادہ ہے؟ انھوں نے کہا: یہی ہمارا شہر۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تمہارا خون اور تمہارا مال تم پر اسی طرح حرام ہیں، جس طرح تمہارے اس شہر میں اور تمہارے اس مہینے میں تمہارے اس دن کی حرمت ہے۔

وضاحت:
فوائد: … شریعت ِ مطہرہ کے نزدیک مسلمان کے خون، عزت اور مال کی جس قدر عظمت و حرمت زیادہ تھی، اتنا ہی ہمارے معاشرے کے افراد نے اس عظمت کو خوب پامال کیا ہے، آج مسلمان کی شان اس کے اسلام میں نہیں ہے، بلکہ ساری کی ساری عزت و غیرت کو مال و زر میں پنہاں سمجھ لیا گیا ہے، درہم و دینار والے کا وقار ہے اور مسکراہٹوں کے تبادلے ہیں، ہمیں چاہیے کہ ہمارے معیار میں سب سے پہلے اسلام کی رو رعایت ہو، پھر دوسرے امور کو ترجیح دی جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء / حدیث: 6442
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 15/ 27 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14365 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14418»