حدیث نمبر: 6441
عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَكَانَ قَلِيلَ الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ كُلُّ ذَنْبٍ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَغْفِرَهُ إِلَّا الرَّجُلَ يَمُوتُ كَافِرًا وَالرَّجُلَ يَقْتُلُ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ ، جو کہ کم احادیث بیان کرنے والے تھے، سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہرگناہ معاف کر دے، مگر وہ آدمی جو کفر کی حالت میں مرتا ہے اور جو جان بوجھ کر مؤمن کو قتل کرتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: {اِنَّ الّذَیِنْ کَفَرُوْا وَمَاتُوْا وَھُمْ کُفَّارٌ اُولٰئِکَ عَلَیْھِمْ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ۔} … ’’بے شک جن لوگوں نے کفر کیا اور وہ اس حال میں ہی مر گئے کہ وہ کافر تھے، یہ وہ لوگ ہیں کہ جن پر اللہ تعالیٰ کی لعنت اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔‘‘ (سورۂ بقرہ:۱۶۱)
مومن کو قتل کرنا سنگین جرم ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَائُ ہٗجَھَنَّمُخَالِدًافِیْھَا وَغَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ لَعَنَہٗوَاَعَدَّلَہٗعَذَابًاعَظِیْمًا۔} … ’’اور جس نے مومن کو قصدا قتل کیا اس کا بدلہ دوزخ ہے۔ وہ اس میں ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ تعالیٰ کا غصب ہوگا اور اس کی لعنت ہے اور اس نے اس کے لے بہت بڑا عذاب تیار کیا ہے۔‘‘ (سورۂ نسائ:۹۳)
مذکورہ بالا دو جرائم میں اس اعتبار سے یکسانیت پائی جاتی ہے کہ توبہ تائب ہو جانے کی وجہ سے معاف ہو جاتے ہیں، لیکن اسی حالت میں مر جانے کی صورت میں کفر نا قابل معافی جرم ہے اور قتل قابل معافی، مومن کا قاتل ابدی جہنمی نہیں ہو گا، دوسری نصوص کی روشنی میں اس آیت کو سخت وعید پر محمول کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء / حدیث: 6441
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره۔ أخرجه النسائي: 7/ 81، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16907 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17031»