الفتح الربانی
مسائل القضاء والشهادات— فیصلوں اور شہادتوں کے مسائل
بَابُ التَّعْلِيظِ فِي شَهَادَةِ الزُّوْرِ باب: جھوٹی گواہی کی قباحت کا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْكَبَائِرَ أَوْ سُئِلَ عَنِ الْكَبَائِرِ فَقَالَ الشِّرْكُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَقَالَ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ قَالَ قَوْلُ الزُّورِ أَوْ قَالَ شَهَادَةُ الزُّورِ قَالَ شُعْبَةُ أَكْبَرُ ظَنِّي أَنَّهُ قَالَ شَهَادَةُ الزُّورِ۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود کبیرہ گناہوں کاذکر کیایا کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا، بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی کے ساتھ شرک کرنا، کسی جان کو قتل کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہ سے آگاہ نہ کر دوں اور وہ ہے جھوٹی بات کرنا یا جھوٹی گواہی دینا۔ امام شعبہ کہتے ہیں: میرا زیادہ خیال یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جھوٹی گواہی کی بات کی تھی۔