الفتح الربانی
مسائل القضاء والشهادات— فیصلوں اور شہادتوں کے مسائل
بَاب دَم مَنْ أَذًى شَهَادَةً مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ باب: بغیر مطالبے کے گواہی دینے والے کی مذمت کا بیان
حدیث نمبر: 6434
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَأْتِي بَعْدَ ذَلِكَ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَهَادَاتُهُمْ أَيْمَانَهُمْ وَأَيْمَانُهُمْ شَهَادَاتِهِمْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے بہترین میرا زمانہ ہے، پھر ان لوگوں کا جو میرے بعد ہوں گے، پھر ان کاجوان کے بعد ہوں گے، پھر ان کا جو ان کے بعد ہوں گے، پھر ایسے لوگ آئیں گے کہ ان کی گواہیاں ان کی قسموں سے آگے بڑھیں گی اور ان کی قسمیں ان کی گواہیوں سے آگے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کے آخری جملے کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں، ایکیہ کہ گواہی کے ساتھ قسم اٹھانا مذموم ہے اور دوسرا یہ کہ قسم و شہادت میں غیر محتاط انداز اختیار نہ کیا جائے، بلکہ پہلے یہ سوچنا چاہیے کہ ان امور کی ضرورت بھی ہے یا نہیں،یا صرف قسم کی ضرورت یا صرف شہادت کی، نیز کون سے مواقع پر قسم اور شہادت مذموم ہیں اور کہا ممدوح۔