حدیث نمبر: 6433
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِي بُعِثْتُ فِيهِمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَقَالَ الثَّالِثَةَ أَمْ لَا ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ يُحِبُّونَ السَّمَانَةَ يَشْهَدُونَ قَبْلَ أَنْ يُسْتَشْهَدُوا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں بہترین زمانہ وہ ہے، جس میں میں موجود ہوں، پھر اس کے بعد والے لوگوں کا زمانہ، پھر اس کے بعد والے لوگوں کا زمانہ، (راوی کہتا ہے کہ مجھے معلوم نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیسری مرتبہ فرمایا تھا یا نہیں)،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر ایسے لوگ آئیں گے، جو موٹاپے کو پسند کریں گے اور وہ گواہی کے مطالبے سے پہلے گواہی دیں گے۔

وضاحت:
فوائد: … موٹاپے کو پسند کرنے سے مراد عیش پرستی اور زیادہ مقدار میں کھانا پینا ہے، جس کا نتیجہ موٹاپے کی صورت میں نکلتا ہے۔
پچھلے باب کی احادیث میں مطالبے سے پہلے گواہی دینے کو سراہا گیا ہے، جبکہ اس حدیث میں مذمت کی جا رہی ہے۔ جمع وتطبیقیہ ہے کہ جب ایک آدمی کو اپنے حق کے بارے میں علم ہو، لیکن پھر بھی اس کے مطالبے کے بغیر اس کے حق میں گواہی دے دی جائے، یہ مذموم گواہی ہو گی، کیونکہ ممکن ہے کہ وہ آدمی اپنا حق معاف کرنا چاہتا ہو، یا کم از کم لوگوں کے سامنے اس کا ذکر نہ کرنا چاہتا ہے۔ بعض لوگوں نے اس حدیث میں مذموم گواہی سے مراد جھوٹی گواہی لی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القضاء والشهادات / حدیث: 6433
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2534، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7123 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7123»