الفتح الربانی
مسائل القضاء والشهادات— فیصلوں اور شہادتوں کے مسائل
بَابُ نَهْي الشَّاهِدِ عَنْ كِتْمَانِ الْحَقِّ خَشْيَةَ النَّاسِ وَمَا جَاءَ فِي شَهَادَةِ الْحِسْبَةِ باب: گواہی دینے والے کو لوگوں کے ڈر کی وجہ سے حق چھپانے سے ممانعت کا بیان اور (بغیر مطالبے کے) ثواب حاصل کرنے کے لیے شہادت دینے والے کی گواہی کا بیان
حدیث نمبر: 6432
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ الشَّهَادَةِ مَا شَهِدَ بِهَا صَاحِبُهَا قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہترین گواہی وہ ہے جو گواہ مطالبے سے پہلے خود ہی پیش کردے۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان احادیث میں جس شہادت کو بہتر قرار دیا ہے، اس کے دو محل ہیں: (۱) جب کسی کا حق غصب ہورہا ہو، جبکہ اس کے پاس کوئی اور گواہ نہ ہو تو جس آدمی کو معاملے کاعلم ہو، وہ از خود گواہی دے دے۔
(۲) اس شہادت کا تعلق طلاق، آزادی، وقف، عام وصیتوں اور حدود وغیرہ سے ہے، یعنی جس شخص کو امور کا علم ہو اور حاکم کے ہاں وضاحت کی ضرورت پڑ جائے تو وہ از خود حاکم کے پاس گواہی دے۔
جس شہادت کا تعلق محض کسی کے عیب کو ظاہر کرنے کے ساتھ ہو، وہاں خاموشی اختیار کرنی چاہیے، البتہ جہاں تک ممکن ہو، اس آدمی کو سمجھا دینا چاہیے۔
(۲) اس شہادت کا تعلق طلاق، آزادی، وقف، عام وصیتوں اور حدود وغیرہ سے ہے، یعنی جس شخص کو امور کا علم ہو اور حاکم کے ہاں وضاحت کی ضرورت پڑ جائے تو وہ از خود حاکم کے پاس گواہی دے۔
جس شہادت کا تعلق محض کسی کے عیب کو ظاہر کرنے کے ساتھ ہو، وہاں خاموشی اختیار کرنی چاہیے، البتہ جہاں تک ممکن ہو، اس آدمی کو سمجھا دینا چاہیے۔