الفتح الربانی
مسائل القضاء والشهادات— فیصلوں اور شہادتوں کے مسائل
بَابُ مَنْ يَجُوزُ الْحُكْمُ بِشَهَادَتِهِ وَمَنْ لَا يَجُوزُ. باب: اس چیز کا بیان کہ کس کی شہادت پر حکم لگانا جائز ہے اور کس کی شہادت پر ناجائز
حدیث نمبر: 6428
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَجُوزُ شَهَادَةُ خَائِنٍ وَلَا مَحْدُودٍ فِي الْإِسْلَامِ وَلَا ذِي غِمْرٍ عَلَى أَخِيهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ خیانت کرنے والے کی شہادت جائز ہے، نہ اس شخص کی جس کو اسلام میں حد لگائی گئی ہو اور نہ اس کی جو اپنے بھائی کے خلاف کینہ رکھتا ہو۔
وضاحت:
فوائد: … اگر واضح طور پر معلوم ہو رہا ہو کہ خائن اور حد والے آدمی نے توبہ کر لی ہے اور ان پر توبہ کے آثار دکھائی دے رہے ہوں تو ان شاء اللہ ان کی گواہی قبول کی جائے گی، بہرحال اس مسئلہ میں اختلاف موجود ہے۔