الفتح الربانی
مسائل القضاء والشهادات— فیصلوں اور شہادتوں کے مسائل
بَابُ الْقَضَاءِ بِالْقُرْعَةِ فِيمَا إِذَا إِذْهَا الْخَصْمَانِ مِلْكَ شَيْءٍ وَلَمْ يَكُن لَهُمَا بَينَةٌ وَمَا ذَا يَفْعَلُ إِذَا كَانَ لَهُمَا بينةٌ وَتَعَارَضَتِ البَيِّنَاتُ باب: جب فریقین کسی چیز کی ملکیت کا دعوی کریں اور ان کے پاس کوئی گواہ نہ ہو تو قرعہ کے ذریعے فیصلہ کرنے کابیان، اسی طرح اس چیز کی وضاحت کہ اگر دونوں کے پاس گواہ تو ہوں، لیکن متعارض ہوں
حدیث نمبر: 6423
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُكْرِهَ الِاثْنَانِ عَلَى الْيَمِينِ وَاسْتَحَبَّاهَا فَلْيَسْتَهِمَا عَلَيْهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ( دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب مدّعِی اور مُدَّعا علیہ دونوں قسم پر مجبور کئے جائیں اور وہ اس کو پسند بھی کریں تو ان میں قسم پر قرعہ ڈالا جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح بخاری، نسائی اور بیہقی میں اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((عَرَضَ النَّبِیُّV عَلٰی قَوْمٍ الْیَمِیْنَ فَاَسْرَعَ الْفَرِیْقَانِ جَمِیْعًا فِیْ الْیَمِیْنِ، فَأَمَرَ النَّبِیُّV اَنْ یُسْھَمَ بَیْنَھُمْ فِیْ الْیَمِیْنِ اَیُّھُمْیَحْلِفُ۔)) … ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قوم پر قسم پیش کی، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فریقین کو قسم اٹھانے کے لیے جلدی کرتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ پہلے قسم کے معاملے میںیہ قرعہ ڈالا جائے کہ قسم کون اٹھائے گا۔‘‘ ان احادیث میں بڑا اہم قانون بیان کیا گیا کہ جب مدّعِی اور مُدّعٰی علیہ کا پتہ نہ چل رہا ہو اور دونوں آدمی قسم اٹھانے پر بھی تل جائیں تو دونوں سے قسم نہیں لی جائے گی، بلکہ قرعہ ڈالا جائے گا اور جس کے حق میں قرعہ نکلے گا، صرف وہ قسم اٹھائے گا، اگر اس نے قسم اٹھا لی تو اس کے حق میں فیصلہ کیا جائے گا۔