الفتح الربانی
مسائل القضاء والشهادات— فیصلوں اور شہادتوں کے مسائل
بَابُ الْقَضَاءِ بِالْقُرْعَةِ فِيمَا إِذَا إِذْهَا الْخَصْمَانِ مِلْكَ شَيْءٍ وَلَمْ يَكُن لَهُمَا بَينَةٌ وَمَا ذَا يَفْعَلُ إِذَا كَانَ لَهُمَا بينةٌ وَتَعَارَضَتِ البَيِّنَاتُ باب: جب فریقین کسی چیز کی ملکیت کا دعوی کریں اور ان کے پاس کوئی گواہ نہ ہو تو قرعہ کے ذریعے فیصلہ کرنے کابیان، اسی طرح اس چیز کی وضاحت کہ اگر دونوں کے پاس گواہ تو ہوں، لیکن متعارض ہوں
حدیث نمبر: 6422
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلَيْنِ تَدَارَآ فِي دَابَّةٍ لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ فَأَمَرَهُمَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ أَحَبَّا أَوْ كَرِهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دوآدمی ایک جانور کے بارے میں جھگڑ پڑے، جبکہ کسی کے پاس کوئی دلیل نہیں تھی، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں قسم اٹھانے پر قرعہ ڈالنے کا حکم دیا،یہ حکم ان کو پسند ہو یا نہ ہو۔