الفتح الربانی
مسائل القضاء والشهادات— فیصلوں اور شہادتوں کے مسائل
بَابُ اسْتِخْلَافِ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ فِي الْأَمْوَالِ وَالدِّمَاءِ وَغَيْرِهِمَا إِذَا لَمْ تُوجَدْ بَينَةٌ لِلْمُدَّعِى باب: مالوں اور خونوں جیسے معاملات میں جب مدعی کے پاس گواہ نہ یو تو مدعیٰ علیہ سے قسم لینے کا بیان
حدیث نمبر: 6419
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ، قَالَ عَمْرٌو: وَإِنَّمَا ذَلِكَ فِي الْأَمْوَالِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گواہ کے ساتھ ایک قسم کی روشنی میں فیصلہ کیا، عمرو نے کہا: یہ مالوں کے معاملات کے لیے ہے۔
وضاحت:
فوائد: … مُدّعی اپنے دعوی پر دو گواہ پیش کرے گا، اگر دو گواہ میسر نہ ہوں تو وہ ایک گواہ پیش کر دے،لیکن اس کے ساتھ اپنے مؤقف کو ثابت کرنے کے لیے ایک قسم اٹھائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ اور ایک قسم کی روشنی میں فیصلہ کیا، امام شافعی، امام مالک اور امام احمد کا یہی مسلک ہے، البتہ امام ابو حنیفہ کی رائے یہ ہے کہ دو گواہ ہی ضروری ہے، لیکنیہ رائے درست نہیں ہے۔ اگر مُدّعی کے پاس ایک گواہ بھی نہ ہو تو پھر اس کو قسم اٹھانے کا کوئی اختیار نہیں ہو گا اور مُدّعی علیہ اپنے حق میں قسم اٹھا کر بری ہو جائے گا۔