الفتح الربانی
مسائل القضاء والشهادات— فیصلوں اور شہادتوں کے مسائل
أَبْوَابُ الدَّعَاوِي وَالْبَيِّنَاتِ وَصُورَةِ الْيَمِينِ وَغَيْرِ ذَلِكَ باب: دعووں، گواہیوں اور قسم کی صورتوں وغیرہ کے ابواب مالوں اور خونوں جیسے معاملات میں جب مُدَّعِی کے پاس گواہ نہ ہو تو مُدّعٰی علیہ سے قسم لینے کا بیان
عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلَانِ يَخْتَصِمَانِ فِي أَرْضٍ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: إِنَّ هَذَا انْتَزَى عَلَى أَرْضِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ (وَهُوَ امْرُؤُ الْقَيْسِ بْنُ عَابِسٍ الْكِنْدِيُّ وَخَصْمُهُ رَبِيعَةُ بْنُ عَبْدَانَ)، فَقَالَ لَهُ: ((بَيِّنَتُكَ))، قَالَ: لَيْسَ لِي بَيِّنَةٌ، قَالَ: ((يَمِينُهُ))، قَالَ: إِذًا يَذْهَبُ، قَالَ: ((لَيْسَ لَكَ إِلَّا ذَلِكَ))، فَلَمَّا قَامَ لِيَحْلِفَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنِ اقْتَطَعَ أَرْضًا ظَالِمًا لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ))۔ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دو آدمی آئے، ان کا زمین کا جھگڑا تھا، ایک امرء القیس بن عابس کندی تھا اور اس کا مقابل ربیعہ بن عبدان تھا، اول الذکر نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے جاہلیت میں میری زمین زبردستی چھین لی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کندی سے فرمایا: دلیل پیش کرو۔ وہ کہنے لگا: دلیل تو کوئی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر مُدّعا علیہ قسم اٹھائے گا۔ اس نے کہا: وہ تو پھر میرا مال ہتھیا لے گا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے علاوہ تیرے حق میں کچھ ہے ہی نہیں۔ پھر جب وہ قسم اٹھانے کے لیے کھڑا ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو ظلم کرتے ہوئے کسی کی زمین ہتھیا لے گا تو وہ روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر ناراض ہو گا۔