الفتح الربانی
مسائل القضاء والشهادات— فیصلوں اور شہادتوں کے مسائل
أَبْوَابُ الدَّعَاوِي وَالْبَيِّنَاتِ وَصُورَةِ الْيَمِينِ وَغَيْرِ ذَلِكَ باب: دعووں، گواہیوں اور قسم کی صورتوں وغیرہ کے ابواب مالوں اور خونوں جیسے معاملات میں جب مُدَّعِی کے پاس گواہ نہ ہو تو مُدّعٰی علیہ سے قسم لینے کا بیان
حدیث نمبر: 6415
عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَوْ أَنَّ النَّاسَ أُعْطُوا بِدَعْوَاهُمْ، ادَّعَى نَاسٌ مِنَ النَّاسِ دِمَاءَ نَاسٍ وَأَمْوَالَهُمْ، وَلَكِنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے یہ تحریر بھیجی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگوں کو ان کے دعووں کے مطابق دیا جائے تو وہ لوگوں کے خونوں اور مالوں کا دعوی کر دیں، لیکن قسم مُدَّعٰی علیہ پر ہو گی۔
وضاحت:
فوائد: … یہ شریعت ِ اسلامیہ کا بڑا اہم اور سادہ قانون ہے کہ مدّعی اپنے دعوے پر گواہ پیش کرے، وگرنہ مُدّعٰی علیہ قسم اٹھا کر اس کے دعوے سے بری ہو جائے گا، لیکن اس کو چاہیے کہ وہ جھوٹی قسم سے مکمل اجتناب کرے، وگرنہ اگلی حدیث کا مصداق بن جائے گا، ایسے موقع پر حاکم کو چاہیے کہ وہ وعظ و نصیحت کرے اور آخرت کی اہمیت اور دنیا کی بے ثباتی بیان کرے۔