حدیث نمبر: 6412
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ) لَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَلْحَنُ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، وَإِنَّمَا أَقْضِي لَهُ بِمَا يَقُولُ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِشَيْءٍ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ بِقَوْلِهِ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ، فَلَا يَأْخُذْهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ایک بشر ہوں اور تم میرے پاس اپنے مقدمات لے کر آتے ہو، اس لیے ممکن ہے کہ تم میں سے کوئی دوسروں کی بہ نسبت دلائل کے نشیب و فراز سے زیادہ واقف ہے اور میں تو اس کے بیان کے مطابق ہی فیصلہ کروں گا، لہذ ا اگر میں کسی کے حق میں اس کے بھائی کے حق کا فیصلہ کر دوں تو وہ اس کو نہ لے، کیونکہ ایسی صورت میں میں اسے آگ کا ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں گا۔

وضاحت:
فوائد: … حاکم نے گواہوں اور دلیلوں کی روشنی میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے، اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ حاکم کے فیصلے کا حرام کو حلال کرنے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، یعنی اگر وہ کسی چیز کا غیر مستحق آدمی کے حق میں فیصلہ کر دیتا ہے تو اس فیصلے سے وہ چیز اس آدمی کے لیے حلال نہیں ہو جائے گی، جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے، بلکہ وہ حرام ہی رہے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القضاء والشهادات / حدیث: 6412
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2680، 7169، ومسلم: 1713 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25670 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26189»