حدیث نمبر: 641
عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ: صَلَّيْنَا الْغَدَاةَ فَأَتَيْنَاهُ (يَعْنِي عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) فَجَلَسْنَا إِلَيْهِ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَأُتِيَ بِرَكْوَةٍ فِيهَا مَاءٌ وَطَسْتٍ، قَالَ: فَأَفْرَغَ الرَّكْوَةَ عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا وَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا بِكَفٍّ كَفٍّ (وَفِي رِوَايَةٍ: فَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا مِنْ كَفٍّ وَاحِدٍ) ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ فِي الرَّكْوَةِ فَمَسَحَ بِهَا رَأْسَهُ بِكَفَّيْهِ جَمِيعًا مَرَّةً وَاحِدَةً ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: هَذَا وَضُوءُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاعْلَمُوهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد خیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم نماز فجر ادا کر کے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان کے ہاں بیٹھ گئے، انہوں نے وضو کا پانی منگوایا، پس ایک برتن لایا گیا، جس میں پانی تھا اور چلمچی لائی گئی، پس انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ پر پانی بہایا اور دونوں ہاتھوں کو تین دفعہ دھویا، پھر ایک ایک چلو کر کے تین تین کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا۔ ایک روایت میں ہے: ایک ہی چلو سے تین دفعہ کلی کی اور تین دفعہ ناک میں پانی چڑھایا، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا اور بازوؤں کو تین تین دفعہ دھویا، پھر اپنا ہاتھ برتن میں رکھا اور دونوں ہتھیلیوں کے ساتھ ایک دفعہ سر کا مسح کیا، پھر تین تین بار اپنے پاؤں کو دھویا اور پھر کہا: ”یہ تمہارے نبی کا وضو ہے، اس کو سیکھ لو۔“
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن زید بن عاصمؓ سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وضو کر کے دکھائیں، پس انھوں نے وضو کیا، (راوی نے کلی اور ناک کا یہ طریقہ بیان کیا) ثُمَّ اَدْخَلَ یَدَہٗ فَاسْتَخْرَجَھَا فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ کَفٍّ وَاحِدَۃٍ فَفَعَلَ ذَالِکَ ثَلَاثًا۔ … پھر انھوںنے اپنا ہاتھ داخل کیا اور اس کو نکالا اور ایک چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور اس طرح تین دفعہ کیا۔ آخر میں کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وضو ہے۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم) سیدنا عبد اللہ بن زیدؓ ہی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ کَفٍّ وَاحِدَۃٍ، فَعَلَ ذَالِکَ ثَلَاثًا۔ … میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور اس طرح تین دفعہ کیا۔ ان احادیث سے ثابت ہوا کہ ایک ہی چلو سے کلی بھی کرنی چاہیے اور ناک میں پانی میں بھی چڑھانا چاہیے، جبکہ ایسا کرنا بہت آسان ہے۔ کلی اور ناک کے لیے ایک چلو لینے کو وصل اور الگ الگ چلو لینے کو فصل کہتے ہیں۔ وصل کی احادیث تو واضح اور صریح ہیں، لیکن کوئی روایت صراحۃً فصل پر دلالت نہیں کرتی، اگر کسی سے کوئی گنجائش ملتی ہے تو وہ ضعیف ہے، مثلا: صحابی کہتے ہیں: فَرَاَیْتُہٗ یَفْصِلُ بَیْنَ الْمَضْمَضَۃِ وَالْاِسْتِنْشَاقِ۔ … میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کلی اور ناک میں پانی چڑھانے میں فاصل کرتے تھے۔ (ابوداود: ۱۳۹) پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے، اس میں لیث بن ابی سلیم ضعیف ہے اور طلحہ کا باپ مجھول ہے، دوسری بات یہ ہے کہ یہ حدیث صراحت کے ساتھ دو چلوؤں پر دلالت نہیں کرتی، کیونکہ ایک چلو سے بھی کلی اور ناک میںپانی چڑھانے میں فاصلہ کیا جا سکتا ہے اور وہ اس طرح کہ آدھا چلو منہ میں ڈال کر کلی کی اور پھر آدھا چلو ناک میں ڈال دیا۔ یہی حال باقی روایات کا ہے، لیکن یہ گزارش ضروری ہے کہ جو احباب فصل کو ثابت کرنے کے لیے زور لگاتے ہیں، ان کو وصل بھی تسلیم کر لینا چاہیے، کیونکہ یہ تو صحیح اور صریح احادیث سے ثابت ہے۔