حدیث نمبر: 6409
عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ أَبَاهُ أَمَرَهُ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى ابْنٍ لَهُ وَكَانَ قَاضِيًا بِسِجِسْتَانَ: أَمَّا بَعْدُ، فَلَا تَحْكُمَنَّ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَأَنْتَ غَضْبَانُ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((لَا يَحْكُمُ أَحَدٌ (وَفِي لَفْظٍ: لَا يَقْضِي الْحَاكِمُ) بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابن ابی بکرہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک بیٹے، جو کہ سجستان کے علاقے میں قاضی تھا، کو یہ خط لکھا: اما بعد! جب تو غصہ کی حالت میں ہو تو دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہیں کرنا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی یا کوئی حاکم غصے کی حالت میں دو افراد کے مابین فیصلہ نہ کرے۔

وضاحت:
فوائد: … دو یا زائد افراد یا فریقوں کے مابین فیصلہ کرنے کے لیے صبر و تحمل کی اشد ضرورت ہے، بلکہ یہ صفت تو قاضی اور حاکم کا زیور ہے، غیظ و غضب کسی مسئلے کا حل نہیں ہے، ہاں یہ علیحدہ بات ہے کہ ظالم فرد یا فریق کے ظلم کی نوعیت کو دیکھ اس کے سامنے غصے کا اظہار کیا جا سکتا ہے، تاکہ اس کو اپنی غلطی کا احساس ہو جائے، لیکن فیصلہ کرتے وقت حاکم کو غصے کی حالت میں نہیں ہونا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القضاء والشهادات / حدیث: 6409
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20467 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20741»