الفتح الربانی
مسائل القضاء والشهادات— فیصلوں اور شہادتوں کے مسائل
بَابُ التَّشْدِيدِ عَلَى الْحُكَّامِ الْجَائِرِينَ وَفَضْلِ الْمُقْسِطِينَ باب: ظالم حاکموں کی مذمت اور مُنصِف حکمرانوں کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 6402
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ: أَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْضِيَ بَيْنَ قَوْمٍ، فَقُلْتُ: مَا أُحْسِنُ أَنْ أَقْضِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ((اللَّهُ مَعَ الْقَاضِي مَا لَمْ يَحِفْ عَمْدًا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے لوگوں کے ما بین کوئی فیصلہ کرنے کا حکم دیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اچھے انداز میں فیصلہ نہیں کر سکتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی اس وقت تک قاضی کے ساتھ ہوتا ہے، جب تک وہ ظلم نہ کرے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الْقَاضِیْ مَا لَمْ یَجُرْ، فَاِذَا جَارَ تَخَلّٰی عَنْہُ وَلَزِمَہُ الشَّیْطَانُ۔)) … ’’بیشک اللہ تعالی اس وقت تک قاضی کے ساتھ ہوتا ہے، جب تک وہ ظلم نہیںکرتا، جب وہ ظلم کرتا ہے تو اللہ تعالی اس سے ہٹ جاتا ہے اور شیطان اس کو چمٹ جاتا ہے۔‘‘ (ترمذی: ۱۳۳۰، ابن ماجہ: ۲۳۱۲)
اس موضوع سے متعلقہ احادیث ِ صحیحہ کا تقاضا یہ ہے کہ حکمرانوں اور حاکموں کو عدل و انصاف کی روش اختیار کرنی چاہیے، جبکہ عدل کے تقاضے اتنے زیادہ ہیں کہ ان کو پورا کرنا بہت مشکل ہے، مسلم حکمران طبقے کو خلفائے راشدین کے طرزِ خلافت کا مطالعہ کرنا چاہیے اور یہ نکتہ ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ اس شعبے کا چودھراہٹ کے اظہار اور دنیوی مال و زر کے حصول کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔
اس موضوع سے متعلقہ احادیث ِ صحیحہ کا تقاضا یہ ہے کہ حکمرانوں اور حاکموں کو عدل و انصاف کی روش اختیار کرنی چاہیے، جبکہ عدل کے تقاضے اتنے زیادہ ہیں کہ ان کو پورا کرنا بہت مشکل ہے، مسلم حکمران طبقے کو خلفائے راشدین کے طرزِ خلافت کا مطالعہ کرنا چاہیے اور یہ نکتہ ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ اس شعبے کا چودھراہٹ کے اظہار اور دنیوی مال و زر کے حصول کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔