الفتح الربانی
مسائل القضاء والشهادات— فیصلوں اور شہادتوں کے مسائل
بَابُ كَرَاهَةِ الْحِرْصِ عَلَى الْقَضَاءِ وَالْوِلَايَةِ وَنَحْوِهَا بَابُ التَّشْدِيدِ عَلَى الْحُكّامِ الْجَائِرِينَ وَفَضْل الْمُقْسِطِينَ باب: قضا اور امارت کی حرص رکھنے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 6396
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ جُعِلَ قَاضِيًا بَيْنَ النَّاسِ فَقَدْ ذُبِحَ بِغَيْرِ سِكِّينٍ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جسے لوگوں پر قاضی مقرر کیا گیا، اسے گویا چھری کے بغیر ذبح کر دیا گیا۔
وضاحت:
فوائد: … یقینا امت ِ مسلمہ کے لیے قاضی اور حاکم کا ہونا ضروری ہے اور وہ لوگ بڑے خوش بخت اور سعادت مند ہیں جو عہدہ ٔ قضا پر فائز ہونے کے بعد عدل و انصاف کے ترازو کو تھامے رکھتے ہیں، جبکہ ایسے لوگ بہت کم ہیں، حکمرانوں اور قاضیوں کی اکثریت عدل و انصاف کے تقاضے پورے نہ کر سکی اور ان کی وجہ سے عوام الناس پر بڑا ظلم و ستم ڈھایا گیا۔
عدل و انصاف والے پہلو کو دیکھ کر شریعت ِ مطہرہ میں اس شعبے کی مدح سرائی کی جاتی ہے اور ظلم و تعدی والے پہلو کو دیکھ کر اس کی مذمت کی جاتی ہے۔
عدل و انصاف والے پہلو کو دیکھ کر شریعت ِ مطہرہ میں اس شعبے کی مدح سرائی کی جاتی ہے اور ظلم و تعدی والے پہلو کو دیکھ کر اس کی مذمت کی جاتی ہے۔