حدیث نمبر: 6393
عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي مُوسَى عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: أَرَادَ الْحَجَّاجُ أَنْ يَجْعَلَ ابْنَهُ عَلَى قَضَاءِ الْبَصْرَةِ، قَالَ: فَقَالَ أَنَسٌ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ طَلَبَ الْقَضَاءَ وَاسْتَعَانَ عَلَيْهِ وُكِّلَ إِلَيْهِ، وَمَنْ لَمْ يَطْلُبْهُ وَلَمْ يَسْتَعِنْ عَلَيْهِ أَنْزَلَ اللَّهُ مَلَكًا يُسَدِّدُهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کہ حجاج نے ان کے بیٹے کو بصرہ پر قاضی مقرر کرنا چاہا تو انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے عہدئہ قضا طلب کیا اور دوسرے کے تعاون سے اسے حاصل کرنے کی کوشش کی تو اسے اس عہدے کے سپرد کر دیا جائے گا اور جو آدمی نہ اس کو طلب کرتا ہے اور نہ اس کے حصول کے لئے دوسروں کا تعاون لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے فرشتہ نازل کرے گا، جو درستی کی طرف اس کی رہنمائی کرے گا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القضاء والشهادات / حدیث: 6393
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، لضعف عبد الاعلي الثعلبي، وضعف بلال بن ابي موسي۔ أخرجه ابوداود: 3587، والترمذي: 1323، وابن ماجه: 2309، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13302 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13335»