حدیث نمبر: 6392
عَنْ يَزِيدَ بْنِ مَوْهَبٍ أَنَّ عُثْمَانَ قَالَ لِابْنِ عُمَرَ: اقْضِ بَيْنَ النَّاسِ، فَقَالَ لَهُ: لَا أَقْضِي بَيْنَ اثْنَيْنِ وَلَا أَؤُمُّ رَجُلَيْنِ، أَمَا سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ عَاذَ بِاللَّهِ فَقَدْ عَاذَ بِمَعَاذٍ)) قَالَ عُثْمَانُ: بَلَى، قَالَ: فَإِنِّي أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ تَسْتَعْمِلَنِي، فَأَعْفَاهُ وَقَالَ: لَا تُخْبِرْ بِهَذَا أَحَدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ یزید بن موہب سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدناعبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: لوگوں کے ما بین فیصلہ کرو، انھوں نے کہا: میں دوآدمیوں کے مابین قاضی بنوں گا نہ دو آدمیوں کا امام بنوں گا، اے عثمان! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا تھا کہ جس نے اللہ تعالی کے ساتھ پناہ مانگی، اس نے بہت بڑی پناہ مانگی ؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: جی، کیوں نہیں، انھوں نے کہا: تو پھر میں اس بات سے اللہ تعالی کی پناہ چاہتا ہوں کہ آپ مجھے عامل بنائیں، پس سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کو معاف کر دیا، لیکن کہا: کسی اور کو یہ حدیث بیان نہ کرنا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القضاء والشهادات / حدیث: 6392
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ أخرجه ابن حبان: 5056، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 475 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 475»