حدیث نمبر: 6391
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ (يَعْنِي قَاضِيًا) وَأَنَا حَدِيثُ السِّنِ، قَالَ: قُلْتُ: تَبْعَثُنِي إِلَى قَوْمٍ يَكُونُ بَيْنَهُمْ أَحْدَاثٌ وَلَا عِلْمَ لِي بِالْقَضَاءِ، قَالَ: ((إِنَّ اللَّهَ سَيَهْدِي لِسَانَكَ وَيُثَبِّتُ قَلْبَكَ)) قَالَ: فَمَا شَكَكْتُ فِي قَضَاءٍ بَيْنَ اثْنَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یمن کا قاضی مقرر کر کے بھیجا، جبکہ میں ابھی نو عمر تھا، اس لیے میں نے کہا:اے اللہ کے رسول! آپ مجھے ایک ایسی قوم کے ہاں بھیج رہے ہیں، جن کے درمیان نت نئے معاملات جنم لیتے ہیں اور مجھے تو قضا کا علم ہی نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تیری زبان کی رہنمائی کرے گا اور تیرے دل میں مضبوطی پیدا کر دے گا۔ اس کے بعد دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرتے مجھے کبھی کوئی شک و شبہ نہیں ہوا۔

وضاحت:
فوائد: … یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی تھی، جو اللہ تعالی نے بطورِ معجزہ پوری کی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القضاء والشهادات / حدیث: 6391
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 2310، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 636 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 636»