الفتح الربانی
مسائل القضاء والشهادات— فیصلوں اور شہادتوں کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي القَاضِي يُصِيبُ وَيُخْطِى ، وَأَجْرُ الْقَاضِي الْمُجْتَهِدِ وَكَيْفَ يَقْضِى باب: قاضی کے فیصلے میں درستی اور خطا دونوں کے امکان، مجتہد قاضی کے اجر اور اس کے فیصلہ کرنے کی کیفیت کا بیان
حدیث نمبر: 6387
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: ((فَإِنِ اجْتَهَدْتَ فَأَصَبْتَ الْقَضَاءَ فَلَكَ عَشَرَةُ أُجُورٍ، وَإِنِ اجْتَهَدْتَ فَأَخْطَأْتَ فَلَكَ أَجْرٌ وَاحِدٌ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سےاسی قسم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے اجتہاد کیا اور فیصلہ درست کر لیا تو دس اجر ملیں گے اور اگر تم نے اجتہاد کیا اور خطا ہو گئی تو ایک اجر ملے گا۔