حدیث نمبر: 6386
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِيهِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَصْمَانِ يَخْتَصِمَانِ، فَقَالَ لِعَمْرٍو: ((اقْضِ بَيْنَهُمَا يَا عَمْرُو!)) فَقَالَ: أَنْتَ أَوْلَى بِذَلِكَ مِنِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ((وَإِنْ كَانَ)) قَالَ: فَإِذَا قَضَيْتُ بَيْنَهُمَا فَمَا لِي؟ قَالَ: ((إِذَا أَنْتَ قَضَيْتَ فَأَصَبْتَ الْقَضَاءَ فَلَكَ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، وَإِنْ أَنْتَ اجْتَهَدْتَ فَأَخْطَأْتَ فَلَكَ حَسَنَةٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: دو آدمی آپس کا ایک جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے عمرو!ان کے درمیان فیصلہ کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس امر کے زیادہ حقدار ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ میں ہوں۔ میں نے کہا: اگر میں ان کے ما بین فیصلہ کروں تومجھے کیا ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے فیصلہ کیا اور درست صورت تک پہنچ گئے تو دس نیکیاں ملیں گی اوراگر اجتہاد میں خطا اور غلطی ہو گئی تو ایک نیکی ملے گی۔

وضاحت:
فوائد: … حدیث نمبر (۶۳۸۹)، اس باب کی پہلی تین احادیث سے کفایت کرتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القضاء والشهادات / حدیث: 6386
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا، الفرج بن فضالة ضعيف، محمد بن عبد الاعلي و أبوه لا يعرفان۔ أخرجه الدارقطني: 4/ 203، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17824 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17978»