حدیث نمبر: 6384
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: إِنِّي لَا أَدَعُ شَيْئًا أَهَمَّ إِلَيَّ مِنَ الْكَلَالَةِ، وَمَا اغْلَظَ لِيْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْءٍ مُنْذُ صَاحَبْتُهُ مَا اغْلَظَ لِيْ فِي الْكَلَالَةِ، وَمَا رَاجَعْتُهُ فِي شَيْءٍ مَا رَجَعْتُهُ فِي الْكَلَالَةِ حَتَّى طَعَنَ بِإِصْبَعِهِ فِي صَدْرِي وَقَالَ: ((يَا عُمَرُ! أَلَا تَكْفِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ الَّتِي فِي آخِرِ سُورَةِ النِّسَاءِ؟)) فَإِنْ أَعْشِ أَقْضِ فِيهَا قَضِيَّةً يَقْضِي بِهَا مَنْ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَمَنْ لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑوں گا، جو میرے نزدیک کلالہ کی بہ نسبت زیادہ اہم ہو، اُدھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مسئلے کے بارے میں مجھ پر اتنی سختی کی کہ جب سے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ملا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ پر اتنی سختی نہیں کی تھی اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جتنا مراجعہ کلالہ کے بارے میں کیا، اتنا کسی اور مسئلے میں نہیں کیا،یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سینے میں اپنی انگلی ماری اور فرمایا: اے عمر! کیا تجھے سورۂ نساء کے آخر والی آیت کافی نہیں ہے، جو موسم گرما میں نازل ہوئی تھی؟ پھر انھوں نے کہا: اگر میری زندگی رہی تو میں کلالہ کے بارے میں ایسا فیصلہ بیان کروں گا کہ ہر شخص اس کو سمجھ جائے گا، وہ قرآن پڑھتا ہو یا نہ پڑھتا ہو۔

وضاحت:
فوائد: … سورۂ نساء کی آیت نمبر (۱۲) میں کلالہ کے اخیافی بہن بھائیوں کا اور آیت نمبر (۱۷۶) میں عینی اور علاتی بہن بھائیوں کا ذکر ہے، اگر دونوں مقامات کو غور کے ساتھ پڑھا جائے تو کلالہ سے متعلقہ مسائل سمجھ آ جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الفرائض / حدیث: 6384
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 567، 1617 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 186 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 186»