الفتح الربانی
أبواب الفرائض— فرائض کے ابواب
بَابُ الْمِيرَاتِ بالولاء باب: ولاء کی وجہ سے میراث کا بیان
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: فَلَمَّا رَجَعَ عَمْرٌو جَاءَ بَنُو مَعْمَرِ بْنِ حَبِيبٍ يُخَاصِمُونَهُ فِي وَلَاءِ أُخْتِهِمْ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: أَقْضِي بَيْنَكُمْ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَا أَحْرَزَ الْوَلَدُ وَالْوَالِدُ فَهُوَ لِعَصَبَتِهِ مَنْ كَانَ)) فَقَضَى لَنَا بِهِ۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ (شام سے) واپس آئے تو معمر بن حبیب کے بیٹے ان کے پاس آکر اپنی بہن کی ولاء کے بارے میں جھگڑنے لگے، مقدمہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تک پہنچا دیا گیا اور انہوں نے کہا: میں تمہارے درمیان رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق فیصلہ کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اولاد یا والدین جس مال کا احاطہ کر لیں، وہ ان کے عصبہ کو ملے گا، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسی حدیث کی روشنی میں ہمارے حق میں فیصلہ کر دیا۔