حدیث نمبر: 6378
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ولا ء ، آزاد کرنے والے کے لیے ہے۔

وضاحت:
فوائد: … وَلاء وہ رشتہ ٔ وراثت ہے،جس کے ذریعے آزاد کنندہ یا اس کے عصبہ بنفسہ آزاد شدہ کے وارث بنتے ہیں۔ آزاد کنندہ اور اس کے عصبہ بنفسہ کو عصبہ سببی کہتے ہیں، جب اصحاب الفروض سے مال بچ جائے یا اصحاب الفروض سرے سے موجود نہ ہوں تو عصبہ نسبی وارث بنتے ہیں،اگر عصبہ نسبی نہ ہوں تو عصبہ سببی ترکہ کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔
یہ ولائ، نسب کی طرح کا ایک حق ہے، اس لیے نسب کی طرح ہی نہ اس کی خرید و فروخت کی جا سکتی ہے اور نہ اس کو ہبہ کیا جا سکتاہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الفرائض / حدیث: 6378
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6759، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4817 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4817»