الفتح الربانی
أبواب الفرائض— فرائض کے ابواب
باب مَا جَاءَ فِيْمَنْ قَرَّ مِنْ تَوْرِيثِ وَارِثِهِ باب: اس شخص کا بیان جو اپنے وارث کو میراث سے محروم کرنا چاہے
عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ غَيْلَانَ بْنَ سَلَمَةَ الثَّقَفِيَّ أَسْلَمَ وَتَحْتَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((اخْتَرْ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا)) فَلَمَّا كَانَ فِي عَهْدِ عُمَرَ طَلَّقَ نِسَاءَهُ وَقَسَّمَ مَالَهُ بَيْنَ بَنِيهِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ، فَقَالَ: إِنِّي لَأَظُنُّ الشَّيْطَانَ فِيمَا يَسْتَرِقُ مِنَ السَّمْعِ سَمِعَ بِمَوْتِكَ فَقَذَفَهُ فِي نَفْسِكَ، وَلَعَلَّكَ أَنْ لَا تَمْكُثَ إِلَّا قَلِيلًا، وَأَيْمُ اللَّهِ! لَتُرَاجِعَنَّ نِسَاءَكَ وَلَتَرْجِعَنَّ فِي مَالِكَ، أَوْ لَأُوَرِّثَنَّهُنَّ مِنْكَ، وَلَآمُرَنَّ بِقَبْرِكَ فَيُرْجَمُ كَمَا رُجِمَ قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا غیلان بن سلمہ ثقفی رضی اللہ عنہ جب مسلمان ہوا تو ان کی دس بیویا ں تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو فرمایا: تم ان میں سے کل چار بیویاں منتخب کر لو۔ عہد فاروقی میں سیدنا غیلان رضی اللہ عنہ نے تمام بیویوں کو طلاق دے دی اور سارا مال بیٹوں میں تقسیم کر دیا، جب یہ بات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو انھوں نے ان کو بلایا اور کہا: میرا خیال ہے کہ شیطان نے فرشتوں سے تیری موت کی خبر سن کر تیرے دل میں ڈال دی ہے، اب شاید تیری تھوڑی زندگی باقی رہ گئی ہو۔اللہ کی قسم ہے! یا تو تو اپنی بیویوں سے رجوع کرکے ان کو مال واپس کرے گا، یا میں خود ان بیویوں کو تیرا وارث بناؤں گا اور تیری قبر کے بارے میں حکم دوں گا کہ اس کو ایسے رجم کیا جائے، جیسے ابو رِغال کی قبر کو کیا گیا تھا۔
ابو رغال کون تھا؟ اس کے بارے میں دو اقوال ہیں: (أ)یہ ثمود سے تھا، جب اس کی قوم پر عذاب نازل ہوا تو یہ حرم میں تھا، لیکن جب حرم سے نکلا تو قوم کے عذاب میں پھنس گیا۔ (ب) ابتدائے زمانہ میں ٹیکس وصول کرنے والا ایک آدمی تھا، اس کی قبر مکہ اور طائف کے درمیان ہے، کہا جاتا ہے کہ اس کی قبر کو رجم کیا جائے گا۔