الفتح الربانی
أبواب الفرائض— فرائض کے ابواب
بَابُ مِيرَاتِ ابْنِ الْمُلَاعَنَةِ وَالزَّانِيَّةِ مِنْهُمَا وَمِبْرَائِهِمَا مِنْهُ وَانْقِطَاعِهِ مِنَ الأب باب: لعان اور زنا والی اولاد کا اپنی ماؤں کا اور ان کی ماؤں کا ان کا وارث بننا اور ایسی¤اولاد کا باپ سے منقطع ہو جانا
حدیث نمبر: 6375
عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ اللَّيْثِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الْمَرْأَةُ تَحُوزُ ثَلَاثَ مَوَارِيثَ: عَتِيقَهَا وَلَقِيطَهَا وَوَلَدَهَا الَّذِي تُلَاعِنُ عَلَيْهِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورت تین قسم کی میراثیں سمیٹتی ہے، اپنے آزاد کر دہ غلام کی، گرے پڑے بچے کی اور اس بچے کی جس پر اس نے لعان کیا ہو۔
وضاحت:
فوائد: … مذکورہ بالا دو روایات ضعیف ہیں، درج ذیل دو احادیث ملاحظہ ہوں: سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اِنَّ النَّبِیَّV جَعَلَ مِیْرَاثَ ابْنِ الْمُلَاعَنَۃِ لِأُمِّہٖوَلِوَرَثَتِھَامِنْبَعْدِھَا۔ … نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان والے بیٹے کی میراث اس کی ماں کے لیے اور اس کے بعد اس کے ورثاء کے لیے مقرر فرمائی۔ (ابوداود: ۲۹۰۷) لعان والے ایک قصے کے بارے میں سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: وَکَانَ ابْنُھَا یُنْسَبُ اِلٰی اُمِّہٖ،فَجَرَتِالسُّنَّۃُ اَنَّہٗیَرِثُھَا وَتَرِثُ مِنْہُ مَا فَرَضَ اللّٰہُ لَھَا۔ … اس لعان والی عورت کے بیٹے کو صرف اس کی ماں کی طرف منسوب کیا جاتا تھا، پس یہ سنت جاری ہو گئی کہ ایسا بیٹا اپنی ماں کا وارث بنے گا اور اس کی ماں اس کی وارث بنے گی۔ (صحیح بخاری: ۵۳۰۹، صحیح مسلم: ۱۴۹۲) ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جس بچے پر میاں بیوی میں لعان ہو جائے، وہ صرف اپنی ماں کی طرف منسوب ہو گا اور اس کی میراث کا سلسلہ بھی صرف ماں سے ہو گا، زنا کے بچے کا بھییہی حکم ہو گا۔