حدیث نمبر: 6373
عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: مَا السُّنَّةُ فِي الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْكُفْرِ يُسْلِمُ عَلَى يَدِ الرَّجُلِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ؟ قَالَ: ((هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِحَيَاتِهِ وَمَوْتِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ کافروں میں سے ایک آدمی کسی مسلمان کے ہاتھ پر مسلمان ہوتا ہے، اس کے بارے میں کیا طریقہ ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ مسلمان دوسروں کی بہ نسبت اس کی زندگی اور موت میں اس کا سب سے زیادہ حقدار ہو گا۔

وضاحت:
فوائد: … سعید بن منصور کی روایت میںیہ الفاظ زیادہ ہیں: ((یَرِثُہٗ وَیَعْقِلُ عَنْہُ)) … ’’وہ اس کا وارث بنے گا اور اس کی طرف سے دیت ادا کرے گا۔‘‘ لیکن اس کی سند میں احوص بن حکیم راوی ضعیف الحفظ ہے، لیکن اس کے بارے میں امام البانی نے کہا: فیستشھد بہ۔ (صحیحہ: ۲۳۱۶)
امام عبد اللہ بن مبارک نے کہا: دوسرے ورثاء کی عدم موجودگی میں ایسا شخص وارث بنے گا۔ امام ثوری نے کہا: یہ وارث بنے گا اور یہ دوسروں سے زیادہ حقدار ہو گا۔ (مصنف عبد الرزاق: ۶/ ۲۰، ۹/ ۳۹)
یاد رہے کہ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ ۹؁ھمیں مسلمان ہوئے، اس لیے اس حدیث کے منسوخ ہونے کا دعوی نہیں کرنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الفرائض / حدیث: 6373
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 2918، والترمذي: 2112، وابن ماجه: 2752 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16953 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17077»